پٹنہ،18؍نومبر(ایس او نیوز؍ایجنسی) بہار کی نئی نتیش کمار حکومت کی کابینہ کے 14 وزراء میں سے 13 وزیر کروڑپتی ہیں اور ان لیڈروں کے پاس اوسطاً 3.93 کروڑ روپے کی ملکیت ہے۔ یہ جانکاری بہار الیکشن واچ اینڈ ایسو سی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارمس (اے ڈی آر) نے دی ہے۔ جن 14 وزراء کے حلف ناموں کا تجزیہ کیا گیا ہے، ان میں 13 کروڑپتی ہیں۔ ان میں سے سب سے زیادہ 6 بی جے پی، جنتا دل یو کے 5 اور ہندوستانی عوام مورچہ (ہم) اور وکاس شیل انسان پارٹی (وی آئی پی) کے ایک ایک وزیر ہیں۔ ان 14 وزراء میں دو خواتین ہیں۔
الیکشن واچ ڈاگ اے ڈی آر نے کہا ہے کہ یہ رپورٹ اکتوبر-نومبر کے اسمبلی انتخابات سے قبل ان لیڈران کے ذریعہ ہی پیش کیے گئے حلف ناموں پر مبنی ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’’تجزیہ کیے گئے 14 وزراء کی اوسط ملکیت 3.93 کروڑ روپے ہے۔ جن 14 وزراء کے حلف ناموں کا جائزہ لیا گیا ہے، ان میں 13 کروڑپتی ہیں۔‘‘
نتیش حکومت میں سب سے زیادہ ملکیت رکھنے والے وزراء میں تاراپور انتخابی حلقہ سے چنے گئے میوالال چودھری ٹاپ پر ہیں جن کے پاس 12.31 کروڑ روپے کی ملکیت ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ میوالال چودھری ہی اس حکومت کے سب سے متنازعہ وزیر بھی ہیں۔ ان کے حلف لیتے ہی ان پر بہار زرعی یونیورسٹی کا وائس چانسلر رہتے تقرری میں دھاندلی کے لگے الزام پھر سے بحث کا موضوع بن گئے ہیں۔ ساتھ ہی ان کی بیوی کی موت کا بھی ایشو گرم ہو گیا ہے۔
اس کابینہ میں سب سے کم ملکیت ظاہر کرنے والے وزیر اشوک چودھری ہیں، جنھوں نے بتایا ہے کہ ان کے پاس 72.89 لاکھ روپے ہیں۔ کل 8 وزراء نے اپنی دینداریاں بھی بتائی ہیں، جن میں سب سے زیادہ دینداری سمری بختیار پور انتخابی حلقہ کے مکیش سہنی کی ہے، جن پر 1.54 کروڑ روپے کا قرض ہے۔ علاوہ ازیں 4 وزراء ایسے ہیں جنھوں نے اپنی تعلیمی اہلیت 8ویں اور 12ویں کلاس کے درمیان بتائی ہے، جب کہ 10 وزراء نے گریجویٹ یا اس سے اوپر کی تعلیمی اہلیت ظاہر کی ہے۔ اسی طرح 6 وزراء نے اپنی عمر 41 سے 50 سال کے درمیان بتائی اور 8 وزراء نے 51 سے 75 سال کے درمیان بتائی ہے۔